بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ویب سائٹ "آئل پرائس" کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ـ قطر جو ایران کے خلاف جنگ سے پہلے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندہ ملک سمجھا جاتا تھا، ـ اب امریکی ایل این جی کا سب سے بڑا خریدار بنتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی آبنائے ہرمز کی بندش کا براہ راست نتیجہ ہے، جس نے قطر کی گیس برآمدات کا اصل راستہ کاٹ دیا اور امریکی فوجی اڈوں کی میزبان اور ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے ساتھ شریک اس خلیج فارس کی اس ریاست کو اپنی توانائی کی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا۔
رپورٹ کا خلاصہ:
نقصان اور بحران:
مارچ میں ایرانی میزائل حملوں نے قطر کی 17 فیصد برآمدی صلاحیت کو مفلوج کر دیا اور "قطر انرجی" کے مطابق سالانہ 20 ارب ڈالر کی آمدنی ضائع ہو گئی۔ جنگ کے سات ماہ بعد بھی آبنائے ہرمز سے "بہت کم کھیپیں" گذر رہی ہیں، اور کمپنی نے کچھ طویل مدتی فروخت کے معاہدوں کے لئے "ہنگامی حالت" کا اعلان کر دیا ہے جو پانچ سال تک جاری رہ سکتی ہے اور دسوں ارب ڈالر کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
مجروح ساکھ:
مالی نقصان سے بڑھ کر، "قابل اعتماد سپلائر" کے طور پر قطر کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ایشیائی اور یورپی گاہک جو قطری کھیپوں کی باقاعدہ فراہمی پر انحصار کرتے تھے، اب بار بار ایل این جی کی وصولی میں رکاوٹوں کا شکار ہیں، جس نے قطر کو نئی حکمت عملی کی طرف دھکیل دیا ہے؛ امریکہ سے گیس خرید کر دنیا کی منڈیوں میں دوبارہ فروخت کرنا۔
نئی حکمت عملی:
اکتوبر کے آخر میں قطر انرجی نے دو طویل مدتی معاہدوں پر دستخط کرتے ہوئے امریکہ سے سالانہ 7 ملین ٹن ایل این جی کی خریداری کو حتمی شکل دی؛ 4 ملین ٹن سالانہ لوزیانا اور ٹیکساس کی "چینیئر" تنصیبات سے اور 3 ملین ٹن سالانہ لوزیانا کے "ووڈ سائیڈ" ایل این جی منصوبے سے۔
یہ کھیپیں 2030 اور 2031 سے شروع ہوں گی اور قطر کو امریکہ کا سب سے بڑا ایل این جی خریدار بنا دیں گی۔
اہم نکتہ:
قطر اس گیس کو اپنی سرزمین پر منتقل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ امریکی ایل این جی کو براہ راست ان ممالک کو دوبارہ فروخت کرنے کا ہے جو گیس کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گذرنا مہنگا اور خطرناک ہو گیا ہے۔
قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی کے مطابق، ایل این جی کو پائپ لائن سے منتقل نہیں کیا جا سکتا، اور دوسری جگہ ڈپلیکیٹ تنصیبات بنانا معاشی طور پر مناسب نہیں ہے۔
نتیجہ:
اس تبدیلی نے خلیج فارس کی توانائی کے قواعد کو اگلے سالوں کے لئے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ قطر جو کبھی "شمالی گنبد" گیس فیلڈ (ایران کے ساتھ مشترکہ) اور اپنی جغرافیائی حیثیت کے بدولت عالمی گیس مارکیٹ میں بھاری وزن رکھتا تھا، اب اپنا مارکیٹ حصہ اور گاہکوں کی وفاداری برقرار رکھنے کے لئے حتی کہ گیس پیدا کرنے والے حریف ممالک سے خریداری کی طرف مائل ہو گیا ہے؛ ایک ایسا رخ جو آئل پرائس کے اعتراف کے مطابق خلیج فارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جغرافیائی سیاسی تناؤ کے سامنے گہری زدپذیری کا مظہر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ